اپنی کمائی کی اہلیت کو جانیئے

مصنف: اعجاز عالم | موضوع: مالی معاملات


یہ خواہش تقریباً ہر ایک میں ہوتی ہے کہ کسی انعامی اسکیم کے نتیجے میں اچانک کوئی بڑی رقم ہاتھ آ جائے یا وراثت سے دولت و جائیداد مل جائے۔ اس کے لیے ہم اکثر بڑے مزیدار خواب و خیال میں کھو بھی جاتے ہیں۔ بہرحال سوچوں اور خیالوں پر پابندی تو ہرگز نہیں لگائی جا سکتی لیکن بہت کم خوش نصیبوں کے ہاتھ ایسا سنہری موقع آتا ہے کہ انہیں بیٹھے بٹھائے لمبی رقم مل جاتی ہے۔

ہم میں سے اکثر کو پیسہ کمانے کے لیے سو سو جتن کرنے پڑتے ہیں، ملازمت، کاروبار اور دیگر ذرائع استعمال کر کے ہم کچھ روپیہ کمانے کے قابل ہوتے ہیں۔ ہمیں بتایا جاتا ہے کہ ہمیشہ زندگی کے روشن پہلوئوں پر نظر رکھنی چاہئیے اس لحاظ سے مالی معاملات میں بھی پرامیدی ایک اچھا عمل ہے۔ لیکن توجہ طلب بات یہ ہے کہ خوش امیدی کے پیچھے بھی کوئی ٹھوس عوامل ہونے چاہییں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ امیر بننے کی خواہش ضرور ہونی چاہیئے لیکن اس کے لیے کوئی عملی قدم یا وجوہات کا پیدا کرنا آپ کے ہاتھ میں ہے۔

مسقبل کے لیے بہتر مالی حالات کے لیے آپ کو حقیقت پسندانہ سوچ اختیار کرنا ہو گی۔ اس کے لیے آپ اپنی موجودہ مالی حالت اور اپنی کمائی کی اہلیت کا بغور تجزیہ کیجئے اور پھر اسکے نتیجے پر بنیاد کرتے ہوئے مسقبل کے خواب دیکھیئے۔

اس تجزیئے کے لیے آپ مندرجہ ذیل عوامل کو مدنظر رکھ کر فیصلہ کر سکتے ہیں۔

اگر آپ بیروزگار ہیں۔ اگر آپ ابھی تک بیروزگار ہیں یا تعلیم حاصل کر رہے ہیں تو آپ کو اپنی اہلیت کا اندازہ ذرا احتیاط سے کرنا چاہیئے۔ ایک شخص جس کے پاس میڈیکل کی سند ہے اسکی کمائی ایک ایم بی اے شخص سے یقیناً مختلف ہو گی۔ اس لیے کہا جاتا ہے کہ کوئی بھی پیشہ اختیار کرنے سے پہلے یا کسی پیشے کے متعلق تعلیم حاصل کرنے سے پہلے یہ ضرور جان لیں کہ اس کام کتنی کمائی ہے تاکہ آپکو اندازہ ہو جائے کہ آیا یہ کام کرنے سے آپ اتنا کما لیں گے کہ اپنے خوابوں کو تعبیر دے سکیں۔

یہ تو آپ تسلیم کریں گے کہ ایک مکینک یا کلرک کو کروڑ پتی بننے کا خواب نہیں دیکھنا چاہئیے۔ ہاں اگر آپ کسی ایسے پیشے سے منسلک ہو جائیں جس کی مارکیٹ میں ڈیمانڈ بہت زیادہ ہو تو یقیناً آجر آپکو منہ مانگے دام دے کر حاصل کرنا چاہے گا۔ اس صورت میں آپکا امیری کا خواب دیکھنا جائز ہے۔ اس بات کا مقصد صرف یہ ہے کہ آپکے مستقبل کا مالی نقطہ نظر آپ کی اہلیت اور قابلیت سے ہم آہنگ ہو۔  

اگر آپ ملازمت پیشہ ہیں۔ آپ صبح 9 بجے سے شام 5 بجے تک کسی دفتر میں سخت محنت کرتے ہیں تو کیا آپ نے اپنی کمائی کی اہلیت کا موازنہ اپنی موجودہ اہلیت اور قابلیت سے کیا ہے؟ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپکو آپکی اہلیت کے مطابق مناسب اجرت مل رہی ہے تو آپ یقیناً ایک پر مسرت اور مطمئن زندگی بسر کررہے ہوں گے۔ اس صورت میں آپ اپنی موجودہ مالی حیثیت اور اپنی ماہانہ آمدنی کا موازنہ کر کے اس بات کا بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ چند برس بعد آپ کی مالی حیثیت کیا ہو گی۔

اگر آپ 50،000 ماہانہ کماتے ہیں اور آپکے ماہانہ اخراجات تیس ہزار روپے ہیں اپنی بچت اور سرمایہ کاری کے ساتھ تھوڑی سی ضرب تقسیم کرنے سے آپ یہ جان سکتے ہیں کہ کتنے عرصے میں آپ اتنی دولت اکھٹی کر سکتے ہیں۔ یہ بات طے ہے کہ اس طرح کی ماہانہ آمدن سے آپ امیر ہو سکتے ہیں لیکن اس کے آپکو اچھا خاصا وقت درکار ہو گا۔

اگر آپ کاروبار کرتے ہیں۔ کاروبار کی آمدنی مختلف ہوتی ہے جس کا انحصار کاروبار کی قسم ، اس میں سرمایہ کاری کی حد، متعلقہ کاروبار میں آپکا تجربہ، مقابلے کی حد اور دیگر عوامل پر ہوتا ہے۔۔ کاروبار سے آپکی آمدنی کم بھی ہو سکتی ہے اور زیادہ بھی۔ کاروبار کے متعلق کہا جاسکتا ہے کہ اس سے آپ کافی امیر ہو سکتے ہیں۔

ایک کاروباری شخص امارت کی امید دیگر اشخاص سے نسبتاً زیادہ رکھ سکتا ہے لیکن اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ وہ راتوں رات کروڑ پتی بننے کے متعلق سوچنا شروع کر دے۔ لیکن اگر ایک بزنس مین اچھے بزنس کے گر اور ضروریات سے واقف ہے اور اپنے منافع کو کاروبار میں استعمال کرنا جانتا ہے تو وہ یقیناً اپنی کمائی کو دگنا چوگنا کر سکتا ہے۔

آخری بات۔ ہم سب کو روپے پیسے کی ضرورت ہوتی ہے اور اسکو حاصل کرنے کے لیے ہم اپنی ہمت اور طاقت کے مطابق کوشش بھی کرتے ہیں، ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ ہم ایمانداری سے اپنی موجودہ مالی حیثیت کا تجزیہ کریں اور اپنی کمائی کی اہلیت کا جائزہ لیں اور پھر اپنے مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھ کر فیصلہ کریں کہ اب ہمیں کیا کرنا ہے۔ زندگی صرف دیوانے کے خوابوں پر یا بلاوجہ کی خوش امیدی کے سہارے بسر نہیں کی جا سکتی۔ اس لیے صرف سہانے سپنے دیکھنے کی بجائے ٹھوس منصوبہ بندی اور حقیقت پسندی کو بروئے کار لائیے آپ یقیناً اپنے مالی معاملات کو کامیابی سے چلا سکیں گے۔

Share

You May Also Like