سی این جی کی بچت کے طریقے

مصنف: اعجاز عالم | موضوع: مالی معاملات


آجکل کے مہنگائی کے دور میں جہاں ہر چیز کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں وہاں آئے دن سی این جی کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ چونکہ آمدورفت کے لیے گاڑی کا استعمال ناگزیر ہے اس لیے گھر کے بجٹ کا ایک بڑا حصہ اس پر خرچ ہو جاتا ہے۔ آپ گیس کی قیمتیں تو کم نہیں کرا سکتے لیکن تھوڑی سی احتیاط اور چند اہم باتوں پر عمل کر کے سی این جی پر خرچ ہونے والی رقم میں سے اچھی خاصی بچت کر سکتے ہیں۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ وہ کونسی ایسی باتیں ہیں

ا۔ اکثر لوگ گاڑی کا انجن گرم کرنے (خصوساً سردیوں میں ) کافی وقت صرف کرتے ہیں جس سے خاطر خواہ گیس بلا وجہ ضائع ہو جاتی ہے۔ عموماً تیس سیکند سے ایک منٹ تک انجن مناسب حد تک گرم ہو جاتا ہے۔

٭ انجن کو بلاوجہ بند یا سٹارٹنہ کریں، اگر آپ کی گاڑی کا انجن بیس سے تیس سیکنڈ سٹارٹ رہے تو گاڑی سٹارٹ کرنے کے برابر گیس خرچ ہوتی ہے۔

٭  بعض اصحاب گاڑی بند کرنے سے پہلے خوب ریس دیتے ہیں اور پھر سوئچ آف کتے ہیں۔ ایسا کرنا بلا ضرورت ہوتا ہے۔ اس سے گاڑی کی سٹارٹنگ میں کوئی اثر نہیں ہوتا

٭ گئیر لگا کر گاڑی کو ایکدم حرکت میں نہ لائیں بلکہ ایکسیلیٹر کو آہستہ آہستہ دبائیں۔ کاربوریٹر کے عمدہ کام کرنے کے لیے ایکسیلیٹر کل حصے کا ایک چوتھائی سے زیادہ نہ دبائیں۔

گیس خریدتے ہوئے خیال رکھیں کہ

٭ گیس ہمیشہ ٹھنڈے وقت ہی خریدیں۔ صبح کا وقت سب سے مناسب خیال کیا جاتا ہے کیونکہ اکثر لوگوں کا خیال ہے کہ رات کو گیس بیٹھ جاتی ہے اور ضائع ہو جاتی ہے۔

٭ کوشش کریں کہ آپ ٹینک فُل نہ کروائیں بلکہ حساب رکھ کر دو سے تین سو کی گیس ڈلوائیں تاکہ اسکے لیک ہو کر ضائع ہونے کا اندیشہ نہ رہے۔

گاڑی چلاتے ہوئے خیال رکھیں کہ

٭ گاڑی بہت تیز نہ چلائیں، اس طرح ہوا کی مدافعت کی وجہ سے گاڑی پر دبائو بڑھ جاتا ہے جس سے گیس زیادہ خرچ ہوتی ہے۔

٭ ایک سٹڈی کے مطابق 55 میل فی گھنٹہ کی رفتار 65 سے 70 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے 21 فیصد بہتر اوسط دیتی ہے۔ اس لیے گاڑی کی رفتار پر خاص نظر رکھیں۔

٭ ڈائون گئیر میں گاڑی کو تیز چلانے میں 45 فیصد زیادہ گیس خرچ ہوتی ہے۔ مینئول گئیر سے آپ جلد از جلد اونچے گئیر میں جا سکتے ہیں لیکن خیال رہے کہ گاڑی جھٹکے نہ مارے، اس طرح انجن پر غیر ضروری دبائو پڑتا ہے۔

٭ اکثر اصحاب گئیر لگانے کے بعد بھی اپنے بائیں پائوں سے کلچ کو تھوڑا دبا کر رکھتے ہیں اس طرح کلچ پلیٹ بھی جلدی گھس کر خراب ہو جاتی ہے اور گاڑی پر بھی فضول بوجھ پڑتا ہے۔

٭ موٹروے، جی ٹی روڈ اور بڑی شاہراہوں پر سفر کرتے ہوئے گاڑی کے شیشے بند رکھیں۔ کھلے شیشوں سے مخالف سمت کی ہوا گاڑی پر دبائو بڑھاتی ہے اور گیس کی اوسط کو دس فیصد تک کم کر دیتی ہے۔

٭ کسی جگہ پہنچنے کے لیے سیدھا اور صاف راستہ منتخب کریں جس پر آپ ٹاپ گئیر میں کم از کم بریک لگائے پہنچ سکتے ہوں۔ چھوٹے راستے پر اگر جمپ اور موڑ ہوں گے تو گیس زیادہ خرچ ہونے کے علاوہ گاڑی کے دیگر پرزوں جیسے بریک، کلچ وغیرہ کی گھسائی بھی زیادہ ہو گی۔

٭ گاڑی کی تیوننگ اور سروسنگ پر بھر پور توجہ دیں۔ ایئر فلٹر کو سروس سٹیشن سے پریشر والی ہوا سے اکثر صاف کرواتے رہیں۔ اس کے علاوہ نیا ایئر فلٹر استعمال کرنے سے گیس کی اوسط بہت بہتر ہو جائے گی۔

٭ گاڑی پر سامان کے لیے 'چھت' صرف انتہائی ضرورت کے وقت کی استعمال کریں اور ضرورت پوری ہونے پر اس کو ہٹا دیں۔ اس کی وجہ سے ہوا کی مدافعت بڑھ جاتی ہے اور گاڑی کو زیادہ زور لگانا پڑتا ہے جسکا نتیجہ زیادہ گیس خرچ کی صورت میں نکلتا ہے۔

٭ اگر ایک ہی کالونی یا محلے سے تین چار لوگ الگ الگ گاڑیوں میں قریب قریب دفتروں میں جاتے ہہوں تو سب مل کر باری باری گاڑی استعمال کریں تو نہ صرف گیس کی بچت ہو گی بلکہ سڑکوں پر رش بھی کم ہو جائے گا۔ لیکن ایسے کرے گا کون؟

Share

You May Also Like