غریب لوگوں کے راز

مصنف: اعجاز عالم | موضوع: مالی معاملات


آپ یقیناً حیران ہوں گے کہ آخر ہمیں غریب لوگوںکے راز جاننے کی کیا ضرورت ہے؟ ان کی زندگی کوئی اتنی قابلِ رشک تو نہیں کہ ان کے متعلق جانیں۔ تقریباً ہر شخص کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ کامیاب اور امیر لوگوں کے حالت زندگی کے متعلق جانے تاکہ ان کی طرح زندگی بسر کر سکے۔ لیکن کیا آپکو یقین ہے کہ امیر اور کامیاب لوگوں کے پاس اتنا وقت ہو گا کہ وہ آپ کو اپنے پاس بٹھا کر اپنے بارے میں بتائیں کہ وہ کیسے امیر ہوئے تھے، میرا خیال ہے کہ ایسا بہت مشکل ہے۔

اس لیے امیر لوگوں کے پیچھے بھاگنے سے بہتر ہو گا کہ آپ کچھ وقت نکال کر غریب اور محروم طبقے کے لوگوں کے درمیان وقت گزاریں، اس طرح ان کے دکھ درد اور تکالیف بانٹنے کا موقع بھی مل جائے گا اور آپ ان کی ناکامیوں سے کئی سبق بھی حاصل کر سکتے ہیں۔

غریب اور محروم لوگوں کے پاس فارغ وقت بھی کافی ہوتا ہے اور وہ آپ سے اپنی باتیں بھی کرنا چاہیں گے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آپکو اس سے کیا فائدہ حاصل ہو گا تو اس کا جواب سیدھا اور آسان ہے کہ جو کچھ وہ کرتے رہے ہیں یا جس انداز سے زندگی گزار رہے ہیں آپ اس سے اجتناب برتیں اس طرح آپ بھی امیر اور کامیاب لوگوں کی صف میں شامل ہو جائیں گے۔

بہت سے غریب اور محروم لوگوں سے گفت و شنید اور انکے زندگی کے حالات و واقعات کا بغور جائزہ لینے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ ان میں سے زیادہ تر لوگوں میں چند باتیں مشترک ہیں، جو میں آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں، آپ انکو سمجھیے اور کوشش کیجئے کہ یہ باتیں آپ اپنی زندگی میں نہ دھرائیں تاکہ آپ بھی کامیاب اور امیر لوگوں کی صف میں کھڑے ہو سکیں۔

ا۔ مالیاتی معلومات کی کمی۔ غریب لوگوں کی اکثریت مالی معاملات کے متعلق بہت کم علم رکھتی ہے۔ ان میں سے اگر کوئی کچھ جانتے بھی ہوں تو بھی وہ حقائق پر مبنی نہیں ہوتا۔ وہ صرف اتنا جانتے ہیں کہ پیسہ کمایا جاتا ہے اور خرچ کیا جاتا ہے۔ کمانے اور خرچ کرنے میں توازن برقرار رکھنے کے متعلق وہ سوچتے بھی نہیں۔

ایسے لوگ زیادہ تر سنہری خوابوں اور توقعات کے سہارے زندگی بسر کرتے ہیں اور اس بنیاد پر جو کچھ ان کے ہاتھ میں ہوتا ہے اسے بھی لٹا دیتے ہیں۔آپ کو اس بات کا تو بخوبی علم ہو گا کہ 'توازن' زندگی میں کامیابی کا اہم جزو ہے۔ مالی معاملات میں اس جزو کا نہ ہونا آپکو شدید مالی مشکالت میں مبتلا کر دے گا۔

ب۔ ضروریات اور خواہشات میں تفریق نہ کرنا۔ ضروریات اور خواہشات کے متعلق ایک مفکر نے بڑی خوبصورت بات کی ہے۔

آپ اپنی زندگی میں اس وقت کامیاب ہوتے ہیں جب آپ صرف اس چیز کی خواہش کرتے ہیں جسکی آپکو واقعی ضرورت ہوتی ہے۔

غریب اور ناکام لوگ اپنی خواہشات اور حقیقی ضروریات میں فرق نہیں کرتے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ جس چیز کی وہ خواہش رکھتے ہیں وہی اصل میں انکی ضرورت بھی ہے۔ بلکہ چند ایک تو اس سے بھی ایک قدم آگے نکل جاتے ہیں اور سمجھنا  شروع کر دیتے ہیں کہ جس چیز کی وہ خواہش رکھتے ہیں اس کے بغیر تو گزارہ ہو ہی نہیں سکتا۔ پھر وہ اپنی خواہش کو ہر حال میں پورا کرنے کی تگ ودو میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ اس کے لیے چاہے انہیں مانگنا پڑے، قرض لینا پڑے یا حقیقی ضروریات کو قربان کرنا پڑے وہ اپنی خواہش کو پورا کر کے ہی دم لیتے ہیں۔

یاد رکھیں جو شخص اپنی ضروریات اور خواہشات میں فرق کرنا سمجھ جائے وہ کبھی بھی ناکام اور محروم نہیں رہتا۔

ج۔ گھر کے افراد کا عدم تعاون۔ اگر ہم اس امر کا بغور جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ غریب اور ناکام لوگوں کی بہت بڑی تعداد اسکا شکار ہوتی ہے۔ ایسے لوگوں کے گھر کے افراد فضول خرچ اور لاپرواہ قسم کے ہوتے ہیں

میں ایک ایسے دہاڑی دار شخص کو جانتا ہوں جو سارا دن سخت محنت کے بعد 5-6 سو روپے کماتا ہے لیکن اسکی بیوی کو فلم دیکھنے کی لت ہے، لہذا وہ ہر دوسرے تیسے روز کرائے پر وی سی آر اور ٹی وی منگواتی ہے اور مزے سے فلمیں دیکھتی ہے۔ سونے پر سہاگہ یہ کہ اس دن وہ کھانا بھی ہوٹل سے منگواتی ہے اور اگر بچے فلم کے دوران شور و شرابہ کریں تو انہیں دس، بیس روپے دے کر بازار سے گندی چیزیں کھانے کے لیے باہر بھیج دیتی ہے۔

مطلب یہ ہوا کہ 'فکر نہ فاقہ تے عیش کر کاکا'۔ اب ان خاتون سے کیسے توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ غربت دور کرنے میں اپنے شوہر کا ہاتھ بٹائے گی۔ اسکو ہم کامن سینس کی کمی، احساس کا نہ ہونا، بیوقوفی، حماقت یا کوئی بھی نام دے سکتے ہیں۔ ایسے بہت سے گھرانوں میں گھر کے سربراہ کی کمزور شخصیت کی وجہ سے بھی ہوتا ہے۔

آپ نے ایسے بہت سے غریب  گھرانے دیکھے ہوں گے جن  میں مرد مالی معاملات میں انتہائی لاپرواہ اور غیر ذمہ داری کا ثبوت دیتے ہیں لیکن انکی بیویاں باشعور اور سمجھدار ہوتی ہیں۔ وہ کم آمدنی میں بھی کچھ نہ کچھ پس انداز کر لیتی ہیں جو مشکل حالت میں ان کے کام آتا ہے۔ اسی طرح غریب لوگوں کے بچے بھی چورن، املی کھانے کے لیے اپنی مائوں سے پیسوں کا تقاضا کرتے رہتے ہیں۔

د۔ روز مرہ معاملت میں لاپرواہی۔ غریب اور ناکام لوگ روز مرہ زندگی میں چھوٹے چھوٹے معاملات کی طرف بالکل توجہ نہیں دیتے۔ مثلاً انہیں اس بات کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی کہ دن میں بھی گھر کے بلب جل رہے ہیں، کمرے میں کوئی بھی نہیں پھر بھی ٹی وی، پنکھا چل رہا ہے۔ اگر آپ تھوڑی سی توجہ دیں تو آپ دیکھیں گے کہ اس طرح کیسے بیشمار چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں جو آخر میں جمع ہو کر بہت بڑی بات بن جاتی ہے۔ انکی کمائی ان چھوٹے چھوٹے سوراخوں سے سارا دن قطرہ قطرہ کر کے بہتی رہتی ہے جو مہینے کے اختتام پر بہت بڑا تالاب بن جاتا ہے۔

ح۔ سرمایہ کاری کا فقدان۔ یہ بات تو طے ہے کہ اگر آپ اپنی موجودہ دولت کی کہیں پر سرمایہ کاری نہیں کریں گے تو اسکو کبھی بھی بڑھا نہیں سکیں گے اور اسکے علاوہ افراط زر کا مقابلہ بھی نہیں کر پائیں گے۔ غریب اور ناکام لوگ اپنی موجودہ دولت ( کم یا زیادہ) کی سرمایہ کاری کے متعلق کبھی بھی نہیں سوچتے۔ ان میں بیشتر تو سرمایہ کاری کو بڑے لوگوں کے چونچلے گردانتے ہیں۔وہ سمجھتے ہیں کہ سرمایہ کاری ایک خطرے والا کام ہے جو ان کے لیے مناسب نہیں۔

نتیجتاً وہ کبھی بھی اپنی دولت میں اضافہ نہیں کر سکتے۔ جو روپیہ انکے پاس ہوتا ہے وہ اسکو خرچ کرتے رہتے ہیں حتیٰ کہ وہ ختم ہو جاتا ہے۔ اگر انہوں نے اسکی مناسب سرمایہ کاری کی ہوتی تو وہ زیادہ عرصے تک چل سکتا تھا۔

آخری بات۔ اسکے علاوہ بھی بہت سی دیگر وجوہات اور عوامل ہوتے ہیں جن کی وجہ سے لوگ غریب رہتے ہیں یا اپنے مالی معاملات میں خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں کر پاتے۔ اوپر دی گئی چند وجوہات انتہائی اہمیت کی حامل ہیں اور اگر ہم ان سے سبق حاصل کر کے ان غلطیوں کو نہ دہرائیں تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم اپنی موجودہ آمدن میں ہی ایک کامیاب ااور خوش و خرم زندگی گزار سکیں۔ ضرورت صرف سمجھ اور عمل کی ہے۔

Share

You May Also Like