کپڑے خریدتے ہوئے بچت کے طریقے

مصنف: اعجاز عالم | موضوع: مالی معاملات


کپڑوں کی ضرورت ہر انسان کو ہوتی ہے اور اسکے لیے ہمارے بجٹ کا ایک بڑا حصہ کپڑوں کی خریداری پر صرف ہو جاتا ہے۔ اگر آپ تھوڑی سی سمجھداری سے کام لیں تو کپڑوں کی خریداری میں اچھی خاصی بچت کر سکتے ہیں۔

٭ خود کو نظم و ضبط کا پابند بنائیں اور صرف اس لیے کپڑے نہ خریدیں کہ کسی اور سے ایسے کپڑے پہن رکھیں ہیں۔

٭ کپڑے خریدتے وقت ایسے بنیادی رنگوں کا انتخاب کریں جن کو مختلف کپڑوں کے ساتھ میچ یا کنٹراسٹ کر کے پہن سکیں۔

٭ بازار میں صرف ایک ہی دوکان سے سارے کپڑے نہ خریدیں۔ اکثر دوکاندار کسی ایک آئٹم پر خاطر خواہ رعایت کر کے آپکا اعتماد حاصل کر لیتے ہیں لیکن دوسری چیزوں سے کمی پوری لیتے ہیں۔

٭ بازار جا کر کم از کم 3 سے 5 دوکانوں سے  کپڑوں کی قیمتیں معلوم کر کے موازنہ کریں تو آپ یقیناً دو چار سو روپے بچا لیں گے۔

٭ اکثر اخباروں میں آتا ہے یا دوکانوں پر سیل کے بینر لگے ہوتے ہیں۔ ان کا بغور مشاہدہ کریں اور موازنے کے بعد ان سے فائدہ اٹھائیں۔

٭ اپنی ضرورت کے عام کپڑوں کے لیے سیکنڈ ہینڈ کپڑوں کی دوکانوں پر جانے کو عار نہ سمجھیں۔ بہت سی خواتین و حضرات اپنی ضرورت سیکنڈ ہینڈ کپڑوں سے پوری کر لیتے ہیں۔

٭ کپڑوں کی خریداری پر جانے سے پہلے خود سے یہ سوال ضرور پوچھیئے کہ کیا آپکو واقعی کپڑے لینے کی ضرورت ہے یا صرف شوق پورا کرنا ہے۔جیسا کہ پہلے عرض کیا ہے کہ اپنی ضرورت یا محض خواہش میں فرق سیکھنا انتہائی ضروری ہے۔

٭یہ رواج کہ ہر موقع پر نیا سوٹ ہو ہمارا اپنا بنایا ہوا ہے، اس لیے ہم خود اسکو تبدیل بھی کر سکتے ہیں۔یاد رکھیں نئے یا پرانے لباس سے کوئی اچھا برا نہیں ہوتا ہمیں صرف اپنی سوچ کے زاویے کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔

٭ اکثر گھروں میں یہ بات سننے کو ملتی ہے (خصوصاً نوجوان بچیوں میں ) کہ 'میں یہ کپڑے پہن کر نہیں جائوں گی سب نے دیکھے ہوئے ہیں'۔ بھلا یہ کیا بات ہوئی؟ ہاں لباس پھٹا ہوا یا میلا نہ ہو باقی سب ہمارری اپنی سوچ اور شخصیت کا ڈسپلن ہے۔

٭ بڑے بچوں کے کپڑے چھوٹوں کو پہنانے میں ہر گز کوئی عار نہیں۔ گوروں میں بھی 'ہینڈ می ڈائون' کا رواج عام ہے۔بڑوں کے کپڑوں کی کانٹ چھانٹ کے بعد چھوٹے بچوں کے کپڑے باآسانی تیار کیے جا سکتے ہیں۔

٭ ہو سکے تو اس بات کی کوشش ضرور کریں کہ آپکو خود سلائی آتی ہو۔ اس طرح آپ خاطر خواہ بچت کے ساتھ اپنے من پسند ڈیزائن بنا سکتی ہیں اور پرانے کپڑوں کو بھی نئی جدت دے سکتی ہیں۔

٭ کپڑوں کو ہمیشہ صاف ستھرا اور عمدہ حالت میں رکھیں یہ زیادہ عرصہ چل جائیں گے۔

٭ کپڑوں کے چھوٹے موٹے داغ دھبے گھر میں ہی صاف کیے جا سکتے ہیں، دھوبی یا ڈرائی کلینر کے پاس بھیجنے سے خرچ بڑھ جاتا ہے۔ اسی طرح مردوں کے کاٹن کے جوڑوں پر گھر میں کلف لگائیں، ہاں استری میں تھوڑی محنت ضرور ہو گی لیکن آپ دیکھیں گی کہ مہینے میں چار دفعہ کلف لگانے اور استری پر دھوبی کتنے پیسے لے گا اور اگر آپ یہ کام خود کر لیں تو کتنی بچت کر سکیں گی۔

٭ پرانے کپڑوں کو کاٹ کر اور اچھی طرح دھو کر آپ کچن یا گھر میں جھاڑ پونچھ کے لیے صافی بنا سکتی ہیں۔

٭بچوں کے کپڑے خریدتے وقت انکے موجودہ سائز سے ایک دو نمبر زیادہ کا لیں تاکہ سال بھر میں بچوں کے بڑھنے کے بعد وہ کپڑے ناکارہ نہ ہو جائیں۔

٭ اپنے نئے جیسے کپڑے جن سے آپ کا دل بھر جائے اپنی سہیلیوں، پڑوسنوں کو بیچے بھی جا سکتے ہیں اور ان سے تبادلہ بھی کیا جا سکتا ہے۔

٭کپڑوں کی خریداری پر جانے سے پہلے جاننے والوں اور سہیلیوں سے مشورہ ضرور کر لیں کہ کپڑے کی کن سی دوکان قیمت اور میعار میں بہتر ہے۔

٭ یاد رکھیں کہ زیادہ قیمت کا مطلب ہر گز یہ نہیں ہوتا کہ وہ کپڑا بھی اتنا ہی میعاری ہو گا۔ بعض دوکاندار خواتین کے تجسس اور شوق و پسند کو دیکھ کر زیادہ قیمت لے لیتے ہیں۔

٭ کپڑوں کی خریداری کے لیے بازار جانے سے پہلے اچھی طرح سوچ کر اپنے بجٹ کے مطابق ان تمام چیزوں کی لسٹ بنائیے اور پھر اس سے فالتو کوئی چیز نہ خریدئیے۔

یہ تو تھیں کپڑے خریدتے وقت خیال رکھنے کی چند باتیں۔ آپ ان پر عمل کر کے اپنے لیے کافی رقم بچا سکتی ہیں جا کہ گھر کی دیگر ضروریات کے لیے استعمال میں لائی جا سکتی ہے۔ خوش رہیں

Share

You May Also Like