مالی توانائی کو کنٹرول کیجیئے

مصنف: اعجاز عالم | موضوع: مالی معاملات


مالی توانائی ؟ یقیناً مالی توانائی کا لفظ آپ کو بہت عجیب لگ رہا ہو گا۔ جی ہاں بہت سوں کے لیے شاید ایسے ہی ہو کیونکہ ہم نے دوسری توانائیوں جیسے جسمانی اور ذہنی توانائی کے متعلق تو بہت کچھ پڑھا اور سنا ہے لیکن مالی توانئی کیا ہے؟ یہ وہ توانئی ہے جو اچانک غیر متوقع طور پر کافی زیادہ دولت ہاتھ میں آ جانے سے ہم میں پیدا ہو جاتی ہے۔ چاہے ایسا پرائز بانڈ نکلنے سے ہو، جائیداد یا سٹاک مارکیٹ کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے سے ہو یا کسی بھی ذریعے سے جہاں سے ہمیں توقع نہ ہو۔

چونکہ ایسے سرمائے سے آپکی مالی طاقت بہت بڑھ جاتی ہے جس کی وجہ سے آپ میں اعتماد اور چستی آ جاتی ہے اور آپ خود مضبوط تصور کرنے لگ جاتے ہیں۔ اب ہر چیز آپ کی قوت خرید میں ہے، آپ نے جو کچھ سوچ رکھا تھا وہ سب حاصل کرنا آپکے لیے  بالکل مشکل نہیں، اب آپ جو چاہیں کریں، گھومیں پھریں، موج مستی کریں، دوستوں یاروں پر خوب پیسہ لٹائیں۔

یہ مالی توانئی اپنے اندر اتنا اثر رکھتی ہے کہ یہ آپ کے مالی حالت کو بنا بھی سکتی ہے اور بگاڑ بھی سکتی ہے۔ چونکہ ایسے موقع بار بار میسر نہیں آتے اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ اپنی اس مالی توانائی کو اپنے قابو میں کر کے ایسے اقدامات کیے جائیں کہ یہ ہمیشہ آپ کے تابع رہتے ہوئے آپ کو سدا فائدہ پہنچاتی رہے۔ اگر آپ نے اپنی اس مالی توانئی کو کنٹرول نہ کیا تو یہ ایسے حالت بھی پیدا کر سکتی ہے کہ آپ واپس اپنی پہلی والی حالت میں پہنچ جائیں۔

ایسا کیسے کیا جا سکتا ہے؟ اس کا جواب بالکل سیدھا اور اسان ہے اور وہ یہ کہ اپنے اندر مالیاتی نظم وضبط پیدا کیا جائے اور سمجھداری کا ثبوت دیا جائے۔ اگر آپ اپنے اندر مالیاتی نظم و ضبط پیدا کرنے میں کامیاب ہو گئے تو یہی مالی توانائی ایک بہت بڑی طاقت کی شکل اختیار کر کے آپکو مالی لحاظ سے انتہائی مضبوط کر دے گی۔

آپ کے اندر مالیاتی نظم و ضبط تب پیدا ہو سکتا ہے جب آپ کو اپنے تمام مالیاتی امور کے متعلق درست معلومات ہوں۔ چاہے یہ زندگی کے رواز مرہ معاملات میں بچت کے طریقے ہوں، سرمایہ کاری کے متعلق بات ہو یا اپنی دولت کو سمجھداری سے خرچنے کی ضرورت کے متعلق علم ہو، آپ کو ان تینوں امور پر دسترس حاصل ہونی چاہیئے۔

آپ کو مارکیٹ میں موجود سرمایہ کاری کے تمام موقعوں کے متعلق معلومات ہو تو آپ اپنی دولت میں مسلسل اضافہ کر سکتے ہیں۔ اپنی ضروریات اور شوق کے مطابق اپنی دولت کی سرمایہ کاری کیجئے۔ اس کے علاوہ اپنے بجٹ میں سے روزمرہ بچت کے طریقوں پر عمل کریں اور فضول خرچی سے پرہیز کریں تو کوئی وجہ نہیں کہ آپ اپنی اس مالی توانائی سے بے پناہ فائدہ نہ اٹھا سکیں۔

یاد رکھیں کہ مالیاتی نظم و ضبط کا تعلق دولت ہونے سے کم اور آپ کی شخصت پر زیادہ انحصار کرتا ہے۔ اگر آپ اپنی عام زندگی میں ڈسپلن کے پابند ہیں تو یہی خوبی آپ کے مالیاتی امور میں بھی ظاہر ہو گی۔ چونکہ  ڈسپلن ایک کامیاب زندگی گزارنے کے لیے انتہائی اہم ہوتا ہے لہذا اسکی اہمیت کو کبھی بھی فراموش مت کیجئے۔

آپکا واسطہ یقیناً بہت سے ایسے لوگوں سے پڑا ہو گا جو کبھی بہت امیر تھے لیکن اب وہ بالکل تہی دامن ہیں۔ اس کو مقدر، نصیب کا نام دے لیں لیکن سب سے بڑی وجہ ان لوگوں میں مالیاتی نظم و ضبط کا فقدان ہی ہو گا۔ اس لیے اگر آپ کو کسی وجہ سے مالی توانائی حاصل ہو جائے تو خود پر قابو پائیے اور اللہ تعالیٰ کا شکر کرتے ہوئے ڈسپلن کا مظاہرہ کیجئے، اپنی رفتار کو ذرا کم رکھئیے اور یاد رکھیئے کہ مالیاتی امور میں صرف تین چیزیں ہی آپ کو کامیاب زندگی گزارنے میں مدد دے سکتی ہیں۔

کمانا، کفایت شعاری اور کامیاب سرمایہ کاری

Share

You May Also Like