جسمانی مزاجوں کی پہچان

مصنف: اعجاز عالم | موضوع: صحت و تندرستی


جس طرح ہر انسان مختلف مزاج کا ہوتا ہے اسی طرح ہمارے جسم کے بھی مزاج ہوتے ہیں۔ آپ نے اکثر لوگوں کو کہتے سنا ہو گا کہ میں بادی مزاج والا ہوں اس لیے بادی چیزوں سے پرہیز کرتا ہوں یا میں بلغمی مزاج والا ہوں وغیرہ۔ جس طرح ہر خوراک اور غذا کی افادیت اور فوائد مختلف ہوتے ہیں اسی طرح ہر ایک کے جسم کی طاقت اور اوصاف بھی مختلف ہوتے ہیں۔ جیسے کچھ لوگ کھیرے، خربوزے آسانی سے ہضم کر لیتے ہیں جبکہ انکے مقانلے میں دوسرے لوگ یہ چیزیں کھاتے ہی کھٹی ڈکاریں لینا شروع کر دیتے ہیں۔

ہر ایک کی قوتِ ہاضمہ ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہے۔ چند لوگوں کو کچھ غذائیں خوب راس آتی ہیں اور چند غزائوں کے استعمال سے وہ تکلیف میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔

اگر آپکو اپنے جسمانی مزاج کی پہچان ہو جائے اور آپ اسکے مطابق غذا کو استعمال کریں تو زیادہ فوائد حاصل کر سکتے ہیں۔ اس پوسٹ میں ہم دیکھتے ہیں کہ جسمانی مزاج کون کون سے ہوتے ہیں اور ان کے حامل لوگوں کی کیا خصوصیات ہوتی ہیں۔

ا۔ گرمی کا مزاج۔ اس مزاج کے حامل لوگوں کو پسینہ زیادہ آتا ہے اور اکثر اوقات اس میں بُو بھی ہوتی ہے، دھوپ اور گرمی بری لگتی ہے۔ ایسے لوگ جلد غصے میں آ جاتے ہیں اور خوش بھی جلد ہو جاتے ہیں۔ ان کے کان، ہتھیلیاں اور ناخن بھی قدرے سرخی مائل ہوتے ہیں۔ گرمی کے مزاج والوں کا منہ اکثر کڑوا رہتا ہے۔ ایسے اشخاص کو سرد اور تر تاثیر والی غذائیں زیادہ مفید ثابت ہوتی ہیں۔

ب۔ بلغمی مزاج۔ اس مزاج کے حامل لوگ موٹے تازے ہوتے ہیں اور ان کی جلد چکنی ہوتی ہے۔ یہ جلدی زکام اور کھانسی کا شکار ہو جاتے ہیں، منہ اور ناک سے بلغم زیادہ آتی ہے۔ انکو اکثر بھوک کم لگتی ہے اور وہ زیادہ تر سستی کا شکار رہتے ہیں۔ اسی لیے ایسے مزاج کے لوگ سونے سے زیادہ شوقین پائے جاتے ہیں۔انکو زیادہ تر گرم اور خشک تاثیر والی غذائیں فائدہ دیتی ہیں۔

ج۔ بادی مزاج۔ اس مزاج والوں کو سردی کا موسم تکلیف دیتا ہے اور ذرا سی بے احتیاطی سے ان کا جسم درد کرنا شروع کر دیتا ہے۔ ان کو نیند کم آتی ہے لیکن وہ زیادہ تر جمائیاں لیتے رہتے ہیں۔ منہ سوکھتا ہے اور اکثر کا منہ کا ذائقہ پھیکا پھیکا رہتا ہے۔ ایسے لوگ کبھی زیادہ بھوک اور پیاس محسوس کرتے ہیں اور کبھی بالکل ہی کم۔ بادی مزاج والوں کو عموماً قبض کی شکایت بھی رہتی ہے اور انکی جلد اور بال روکھے روکھے سے دکھتے ہیں۔ ایسے مزاج کے حامل لوگوں کو گرم تر تاثیر والی غذائیں مفید ثابت ہو سکتی ہیں۔

یہ تو تھیں مختلف مزاجوں اور طبیعتوں کے متعلق چند باتیں لیکن اس بات کو ضرور مدنظر رکھیں کہ یہ ضروری نہیں کہ کسی مخصوص مزاج میں تمام علامتیں پائی جائیں، یہ کسی میں کم یا کسی میں زیادہ بھی ہو سکتی ہیں۔

کچھ لوگوں میں دو مزاجوں کا ملاپ بھی ہو سکتا ہے، مثلاً گرم بادی مزاج، بلغمی گرم مزاج، بادی بلغمی مزاج وغیرہ۔ جن اصحاب کی طبیعت میں تینوں قسم کے مزاج معتدل حالت میں پائے جائیں وہ ہر طرح کی غذا استعمال کر سکتے ہیں۔ آپ بھی اپنے مزاج اور طبیعت کے مطابق غذا کھا کر دیکھیں اور تجربہ کریں اس طرح آپ اپنی صحت کے لیے زیادہ بہتر فیصلہ کر سکتے ہیں۔

Share

You May Also Like

Add Your Thoughts